برلن،9؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جرمنی میں غیرملکیوں سے متعلق وفاقی رجسٹر (اے زیڈ آر) کے اعداد و شمار کے مطابق سن2016 کے آخر تک دو لاکھ سات ہزار غیر ملکی ایسے تھے جنہیں لازمی طور پر جرمنی سے ملک بدر کیا جانا ہے۔تاہم جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کے سابق سربراہ اور مہاجرین کے امور سے متعلق وفاقی جرمن کمشنر فرانک یْرگن وائزے ان اعداد و شمار سے متفق نہیں ہیں۔موقرجرمن جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ نے فرانک یْرگن وائزے کے دفتر کی جانب سے ایک سوال کے تحریری جواب کے حوالے سے لکھاہے کہ ایسے تارکین وطن کے بارے میں، جنہیں جرمنی سے لازما? ملک بدر کیا جانا ہے، اے زیڈ آر کے جاری کردہ اعدادوشمار’غیرمعتبر‘ہیں۔رپورٹوں کے مطابق غیر ملکیوں سے متعلق وفاقی رجسٹر کے اعداد و شمار میں جن دو لاکھ سے زائد افراد کو شامل کیا گیا ہے ان میں تقریباً چالیس ہزارسے ایسے تارکین وطن کا اندراج بھی ہے جن کی اب تک جرمنی میں جمع کرائی گئی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔جرمنی میں بائیں بازو کی جماعت کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزارت داخلہ نے بتایا تھا کہ اے زیڈ آر کے اعداد و شمار میں نصف تعداد ایسے مہاجرین کی ہے جن کی جرمنی میں جمع کرائی گئی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں جس کے باعث انہیں لازماََ ملک بدر کیا جانا ہے۔ جب کہ باقی نصف تعداد ایسے غیر ملکیوں کی ہے جن کے جرمن ویزے کی میعاد ختم ہونے کے باوجود وہ ابھی تک ملک میں موجودہیں۔اس سے پہلے بھی جرمن ادارے ایسے ہی اعداد و شمار بتا چکے ہیں، جن میں جرمنی سے لازمی طورپرملک بدر کیے جانے والے مہاجرین کی تعداد حقیقی تعداد سے کہیں زیادہ بتائی گئی تھی۔بائیں بازو کی جرمن خاتون سیاست دان اْولا یلپکے نے اشپیگل سے کی گئی اپنی ایک گفت گو میں غلط اعداد و شمار جاری کرنے پر وفاقی حکومت کوشدیدتنقیدکانشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے اعداد و شمار ’مہاجرین کو ملک بدر کیے جانے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے‘ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔